Islamic Media Service
m.facebook.com
کسی کی بائک ادھار پر نہ لینا ورنہ آپ گاڑی پر سوار ہونے کے بجائے گاڑی آپ پر سوار ہوجائیگی

😔
ایک یادگار سفر
از قلم:- ابو ھادی غفر له
بارش کا موسم تھا اندھیری رات تھی رات کے بارہ بج رہے تھے اور مہمان مکرم کا میزبان نوازی کا تشرف حاصل کرنا تھا حال ایسا ہوا کہ ایک حافظ صاحب کی بائک ادھار لیا ہوا تھا ہوٹل میں بڑی مشکل سے پہونچنا ہوا گاڑی کا حال ایسا تھا جس میں نہ کوئی بریک تھی نہ لائٹ اور نہ ہَرن (سیٹی) تھا اور نہ ہی گیئر کے حالات درست تھے. اس پر بھی مہمان مکرم مفتی صاحب کو ساتھ میں لیکر چل دئے بھر کیف ہوٹل پہونچ کر کھانا تناول فرمائیں اور حضرت مفتی صاحب بڑے ہی خوشی کا اظہار فرما رہے تھے اور کھانے کی تعریف کرتے تھک نہیں رہے تھے..
کھانا ختم ہوا ہوٹل سے باہر نکلے مفتی صاحب کی فرمائش تھی کہ آپ کے شہر میں بہلی دفعہ حاضری ہوئی ہے تو ایسا کیجئے کہ واپسی پر گاڑی میں ہی چلاتا ہوں آپکو تو صحیح سے گاڑی چلانی بھی نہیں آتی ہے اب میں چلاتا ہوں آپ دیکھئے میں کیسے چلاتا ہوں تو ہم نے سوچا کہ چلو اب تو حضرت مفتی صاحب کو ہی گاڑی چلانے کے لئے دے دیتے ہیں.. ہوٹل سے کمرہ تک کی مسافت تین کیلومیٹر کی ہے اب مفتی صاحب اپنی شان وشوکت کے ساتھ گاڑی چلا رہے تھے بس ایک کیلومیٹر چلی تھی کہ اچانک گاڑی بند پڑھ گئی مفتی صاحب فرمانے لگے کہ بھائی کیا بات ہے گاڑی تو بند پڑھ گئی ہے ہم نے کہا کہ مفتی صاحب آپ تو الله والے ہیں مسافر ہیں کسی کرامت کا ہی ظہور ہی فرما دیجئے جس سے کم از کم کمرہ تک ہمارا پہونچنا ہوجائے مفتی صاحب فرمانے لگے ٹھیک بھائی کوشش کرتے ہیں پھر فرمانے لگے کہ سورہ فاتحہ و نصر کی تلاوت شروع کریں شاید کہ گاڑی چلنے کے لئے تیار ہوجائے اور ہمیں فتح مل جائے بھر کیف مفتی صاحب نے اپنی کرامت کے ظہور کے لئے کافی کوشش کئے لیکن ملا کیا؟ پریشانی بڑھتی گئی اور وقت برباد ہوتا گیا.. بالاخر ہم نے رائے پیش کئے کہ ایسا کیجئے مفتی صاحب سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گاڑی میں پیٹرول ہے یا نہیں جب گاڑی کے ٹینکر کھول کر دیکھا گیا تو گاڑی کا ٹینکر مکمل طور پر خالی تھا اب اس عاجز نے سوچا کہ کیوں نہ مفتی صاحب کے فیض حاصل کیا جائے پھر سے مشورہ دیا اور کہنے لگا یہ عاجز گاڑی پر سوار ہوجائے اور آپ اپنے مبارک ہاتھ سے گاڑی دھکا لگانا شروع کیجئے ان شاء الله بہت جلد پہونچ جائینگے اور آپکی کرامت کا بھی ظہور ہوجائیگی اب مفتی صاحب کرے بھی تو کیا کرے فرمانے لگے کہ ٹھیک ہے بھائی جیسے آپکی مرضی اب مفتی صاحب دھکا لگانا شروع کئے اور ہم گاڑی پر سوار ہوئے پھر کچھ دیرکی مسافت کے بعد مفتی صاحب گاڑی میں تشریف رکھے اور یہ عاجز دھکا لگانا شروع کیا بالاخر چند دیر کی مسافت کے بعد ایک بھلا مانوس جو آٹو رکشہ ڈرائیو کرتے ہوئے آرہے تھے انہوں نے دیکھ کر کہا کہ چلئے حضرت آپ دونوں بیٹھ جائیں ہم آپکی بائک کو دھکا لگا دیتے ہیں بالاخر اس طرح کرتے کرتے کمرہ تک پہونچ گئے سفر کے اختتام پر مفتی صاحب نے ایک بہت ہی پیارا جملہ کہا جو جو لوہے کے قلم سے لوہے کی تختی پر لکھے جانے کے قابل ہے فرماتے ہیں بھائی یہ سفر تو ایک یادگار سفر بن گیا ہے اب زندگی میں کبھی کسی اجنبی شہر میں گاڑی نہیں چلائینگے اور خاص طور پر کسی سے ادھار لئے ہوئے گاڑی پر پیٹرول چیک (دیکھے) کئے بغیر ہر گز سوار نہیں ہونگے
اسی لئے احباب سے بھی یہی مشورہ ہے کہ زندگی میں کبھی بھی کسی کی گاڑی پر سوار ہو تو سب سے پہلے پیٹرول دیکھ لیا کریں ورنہ کرامت کے ظہور کے لئے تیار رہیں.
فقط والسلام مع الاحترام
Source m.facebook.com