*#شاگردِ_رسولﷺ استاذِصحابہؓ فداک ابی و أمى

*#شاگردِ_رسولﷺ استاذِصحابہؓ فداک ابی و أمى


*#شاگردِ_رسولﷺ استاذِصحابہؓ فداک ابی و أمى*

 سیدنا ابو ہریرہ ؓ عظیم محسنِ اسلام محدث اور میدان جہاد کا جانباز مجاہد:

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3404715136419366&id=100006427384294


الله کے نبیۖ کے رفقاء کرام جنہیں صحابہ کہا جاتاہے تاریخ انسانی کی بے نظیر جماعت ہے، یہ اسلام کے اولین کارکنان ہیں جنہیں شارع علیہ الصلاۃ والتسلیم نے تیار کیا اور انمٹ سانچے میں ڈھال کر دنیا میں برپا کیا انہوں نے دنیائے انسانیت کو اسلام کی آغوش میں کرلیا

 اسی جماعت کے ایک عظیم کارکن جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ ؓ تھے  

 " ابو ہریرہ " یہ نام اسلامی لٹریچر کا سب سے معتبر مستند اور طاقتور ریفرنس ہے 

 رسول اللہﷺ کے اقوال کو اس امت تک پوری امانت داری کے ساتھ پہنچانے والے رسول اللہﷺ کے معتمد اور سب سے زیادہ احادیث کو روایت کرنے والی شخصیت جن پر کتب احادیث کا مدار ہے جن کے ذریعے اسلامی اسناد قایم ہیں اس نبوی ستون کا نام ابوہریرہؓ ہے 

 ابوہریرہؓ پر رسول اللہﷺ نے اعتماد کیا یہ ان کی شخصیت کی ثقاہت فقاہت اور عدالت کے لیے قولِ فیصل ہے اس کے بعد تاریخ اسلامی میں کسی کو اجازت نہیں دی گئی کہ رسول اللہﷺ کے ذریعے قایم کردہ ان کے اعتماد یافتہ ستونوں کو جانچنے کی جسارت بھی کریں، فن حدیث میں جو بحث جرح و تعدیل کے قوانین کے حوالوں سے ہوتی ہے اس میں بھی صحابہءکرام ؓ کی ذات خارج از بحث ہوتی ہے وہاں بعد کے راویوں، طریقہء روایت اور اسلامی شرع کے تناظرمیں مفہومِ روایت پر بحث ہوتی ہے، فنِ حدیث میں جرح و تعدیل کا شعبہ درحقیقت صحابہءکرام ؓ اور احادیث کے سلسلے ميں کلام کرنے والوں کے لیے راہ نما ہے، ائمہ جرح و تعدیل کے طریقہٴ کار سے سیکھنا اس نازک موضوع پر محتاط اور مضبوط تعلیم ہے 

 حضرت ابوہریرہ ؓ پر ادنی سا اشکال کھڑا کرنا بڑی نادانی اور ذخیرۂ احادیث کے خلاف تحریف و تشکیک کو ہوا دینے والی بات ہے_

کچھ سالوں سے ہندوستان میں مشاجرات صحابۂ ؓ پر بحث کا ماحول بن رہا ہے ہم نے گزشتہ سال سید سلمان حسینی صاحب کی جانب سے پیش کردہ نظریے کی تردید کردی تھی اور اس سے اختلاف کرچکے تھے جس میں وہ سیدنا حضرت امیر معاویہ ؓ کے خلاف بات کرتے تھے وہ صحابہ اور صحابیت کے تعلق سے رائج مفہوم و معیار کے خلاف موقف اختیار کررہےہیں، 

 سیدنا امیر معاویہؓ صحابئ رسولﷺ تھے ان کا شرف صحابیت اور ان کے عہد میں اسلامی رقبوں کی توسیع اور اسلامی سرحدوں کے استحکام میں ان کی خدمات تاریخ اسلامی کا زرّیں باب ہے 

 سیدنا امیر معاویہ ؓ کے خلاف مسلمانوں میں کنفیوژن پھیلانے کی کوئی بھی کوشش مخلصانہ نہیں ہوسکتی

 *چونکہ ہم اس پر اپنا موقف واضح کرچکے تھے اسلیے امسال اس بابت سید سلمان ندوی صاحب کے بے ہنگم غلط اور غیرضروری بیانات کو نظرانداز کیا اور یہ ضروری نہیں تھا کہ چند متعصب حضرات کی خاطر ان کے دباؤ میں پھر سے موقف دوہرایا جائے یہ ہمارے نزدیک حبِ صحابہ نہیں بلکہ بعض متشدد حاسدوں کے دباؤ میں حبِ صحابہ کا سرٹیفکیٹ لینے جیسی بات ہے حبِ صحابہ کا کوئی ٹھیکیدار نہیں بن سکتا البته اب جبکہ ان بیانات میں ایک نیا موڑ ایک اور صحابئ رسولﷺ کے نام سے آرہا ہے تو ضروری معلوم ہوتاہے کہ اس پہلو پر گفتگو کی جائے اور حق واضح کیا جائے*

*بالکل واضح رہنا چاہیے کہ جب سلمان صاحب اس نازک ترین موضوع پر حساسیت کا لحاظ نہیں کرسکتے تو ان بیانات سے کوئی بات کس طرح اور کس پس منظر میں پھیلائی جارہی ہے یہ نہیں دیکھا جائےگا بلکہ جو بات عوام میں پھیل رہی ہے اسی کی تردید کی جائےگی*

 آج سلمان ندوی صاحب کا ایک اور ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں وہ حضرت ابوہریرہ ؓ پر سوال قائم کررہےہیں کہ انہوں نے ساری احادیث کو بیان کیوں نہیں کیا؟ اسی طرح یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ وہ حق بیانی سے گردن زدنی کا خوف رکھتے تھے 

 یہ نہایت سطحی جسارت ہے 

 سیدنا ابوہریرہ ؓ نے ۸۰ سال سے زائد عمر زندگی اس طرح گزاری کہ ان کی نزدیک سے تربیت رسول اللہﷺ نے کی وہ قریب سے رسول اللهﷺ سے فیض اٹھاتے رہے وہ جہاں احادیث کو امت میں منتقل کرتے رہے صحابہءکرام کو درس دیتے رہے محدثین اور فقہاء کو تیار کرتے رہے اسلامی ایمپائر میں عادلانہ نظام کو نافذ کروانے میں جدوجہد کرتے رہے وہیں *وہ کفارومشرکین کے خلاف میدان میں جہادوقتال بھی کرتے رہے وہ اس قدر بےخوف اور ایمانی جرات سے لبریز رہے کہ حضرت علیؓ کی طرف سے انہوں نے لڑائی بھی کی جب حضرت علیؓ نے جمہور صحابہ ؓ کے ساتھ سیدنا حضرت امیر معاویہ ؓ کے خلاف ان کی غلطی پر کارروائی کی، لیکن جہاں ابوہریرہ ؓ حضرت امیر معاویہ ؓ کے خلاف لڑتے تھے وہیں وہ ان کے دسترخوان پر بھی حاضر رہتےتھے جس سے سیدنا امیر معاویہؓ کی اہمیت و افضلیت بحیثیت صحابئ رسولﷺ پتا چلتی ہے اختلاف بین المسلمین کا اعلیٰ مظہر سامنے آتاہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کسی بھی موقف قائم کرنے، اس کو بیان کرنے، اس پر عمل کرنے اور معاشرت میں کسی بھي طرح کے خارجی دباؤ تو درکنار بیرونی ماحول سے بھی تاثر نہیں لیتے تھے 

 وہ مجاہد تھے، محدث تھے وہ اتنے عظیم صحابئ رسولﷺ تھے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ کی نماز جنازہ انہوں نے پڑھائی* 

 فن حدیث، تاریخ و ذخیرۂ احادیث کے پہلوﺅں سے دیکھا جائے تو حضرت ابوہریرہ ؓ کی فضیلت و عظمت پر کروڑوں صفحات لکھے جاسکتے ہیں جوکہ پہلے سے ہی موجود ہیں 

 *لیکن سیدنا ابوہریرہ ؓ پر کلام کرنے سے پہلے سب سے حساس اور نازک پہلو جس کا لحاظ کرنا چاہیے وہ یہ کہ اگر کوئی سیدنا ابوہریرہ ؓ کے تئیں ادنیٰ سا کنفیوژن یا معمولی اعتراض کرتا ہے یا ان کے عمل پر سوال کھڑا کرتاہے تو وہ مستشرقین کو تقویت پہنچانے کا کام کرےگا مغرب کے مستشرقین نے احادیث و فرامینِ نبوی پر جو اعتراضات کیے ہیں اور سیرت نبیۖ کے لٹریچر پر جو کچھ طالع آزمائی کی ہے وہ یہی تو ہیکہ انہیں غیرمعتبر ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے اب اگر ہمارے میں سے کوئی سیدنا ابوہریرہ ؓ پر کمزوری اور کم ہمتی کا غیر منصفانہ سوال قائم کرتاہے جس سے یہ تاثر پھیلے کہ سب سے زیادہ ذخیرۂ احادیث کو بیان کرنے والے ریفرنس کی حیثیت یہ تھی کہ وہ نعوذباللہ وہی باتیں بیان کرتے تھے جس سے ان کی جان پر زد نہ آئے اور انہوں نے الله کے رسولﷺ کی تمام باتوں کو بیان ہی نہیں کیا تو منکرین احادیث کی طرف سے یہ سوال لازمی آئے گا کہ: پھر ایسی کمزوری کے حامل شخص کے ذریعے بیان کردہ روایات اور ذخیرے پر کلی اعتبار کیسے ممکن ہے؟ ظاہر ہے جب آپ ابوہریرہ ؓ کو کمزور ثابت کرینگے تو آپکے بیانیے سے یہ سنگین نتیجہ ازخود پیدا ہوتاہے جوکہ غیرمنصفانہ غیر واقعی اور سراسر زیادتی ہے صحیح بات یہ ہیکہ سیدنا ابوہریرہ ؓ پر سوال قائم کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں وہ ہر لحاظ سے قابل لائق اور فائق تھے ان کی عقل و بصیرت اور ایمانی فراست کے آگے ہمارے اور آپ کے جیسے لوگ ابوہریرہ ؓ کی جوتیاں اٹھانے کے قابل بھی نہیں اگر انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ نہیں بیان کرنا ہے تو اسی میں خیر ہے وہی حق ہے وہ فیصلہ ہمیں بلا چوں چرا ماننا ہے ان کے موقف اور فیصلے پر " کیوں " کرنے کا اختیار ہی نہیں بنتا*

 صحابہءکرام ؓ، مشاجرات صحابہ، اور اس بابت تمام تر بحث جو انہوں نے عوام کے درمیان چھیڑ رکھی ہے اس میں سید سلمان حسینی صاحب کا موقف سخت مذموم ہے *ہم نے گزشتہ سال ہی لکھا تھا کہ سیدنا میر معاویہ ؓ پر ان کا موقف سخت قابلِ تردید ہے، اب اس بحث میں ان کی زبان جس انداز سے حضرت ابوہریرہ ؓ کے تئیں پھسل گئی یہ بھی ان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ان موضوعات پر اپنی مرضی منشاء اور اپنے غصہ آور رویے سے باز آجائیں ان موضوعات پر امت کی خیرخواہی اسی میں ہے جس پر تعامل صدیوں سے جمہور اہلسنت والجماعت کا رہا ہے،* کسی کا کبھی کوئی علیحدہ نظریہ رہا بھی تو اس نے اسے یکبارگی متانت و وقار سے لکھ کر رکھ دیا چہ جائیکہ ایسے نازک موضوعات کو اپنی ضدّی طبیعت کی وجہ سے عوام میں گرمائے رکھا جائے ظاہر ہے ضد انسان کو ایسی جگہ پہنچاتا ہے جہاں سے اس کے ليے شرافت، علمیت، شائستگی، وقار متانت اور انصاف و توازن کو چھوڑنا پڑتاہے اگر آپ خوداحتسابی سے کام لیں تو اپنے دل سے پوچھیے کہ کیا آپ نے اس سنگین موضوع کے اصولوں کا ایک بار بھی لحاظ کیا؟ کیا اس میں آپ نے ایک بار بھی معروضیت کا حق ادا کیا؟ یا ہمیشہ آپ پر خطیبانہ جوش و ولولہ اور ایک خاص قسم کا غصہ مسلط رہا، کیا موجودہ نازک ترین دور میں جبکہ ہندوستان کی نسل پرست ہندوتوا حکومت کے استعماری عزائم سے اپنی قوم کو بچانے اور داعیانہ اوصاف اختیار کرنے کا ترجیحی مطالبہ ہے تب ہر سال نوجوانوں کو اپنے مخصوص انداز سے ایک نازک موضوع پر آپس میں مشتعل و منفعل کرنا کیا کسی دوررس مفکر کو جچتا ہے؟ ایک بار بول کر اپنی بات یکسو ہوجانا الگ بات ہے لیکن مسلسل اسی کو بھڑکائے رکھنا افتراق انتشار اور فتنہ کا سبب ہے جس سے آج امت لخت لخت ہوگئی ہے 

*حسینیت ہر دور میں زندہ رہی ہے آپس میں جھگڑ کر نہیں بلکہ دہشتگردانہ سسٹم سے ٹکرا کے، آج ہندوستان میں حسینیت کی ضرورت ہے حسینیت ہر ظالم اور فاشسٹ نظام سے ٹکرانے کا نام ہے ہمارے ناک کے نیچے یزیدیت پنپ رہی ہے ضروری ہے کہ ان کے خلاف قربانیاں پیش کر کے حسینیت کا منظر کیا جائے ابھی کشمیر میں فوج نے امام عالی مقام سیدنا حسین ؓ کی یاد میں نکلے جلوس پر بربریت کا طوفان مچایا اس ظالم فوج کو حق کا آئینہ دکھانا حسینیت کا مطالبہ ہے کشمیر میں امیت شاہ کی ظالمانہ خیانت اور فوج کے مظالم کے خلاف صراحت کرنا حسینی روح ہے آج کا ہندوستان نریندرمودی اور امیت شاہ کی سربراہی میں فساد کی بھٹی میں جھونکا جارہا ہے، ہندوستان کی نسل پرست جماعت آر۔ایس۔ایس اپنے عالمی نسل پرست فاشسٹ دوستوں سے گلے مل رہی ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ ملکر اپنے منصوبے نافذ کرنے کے لیے بیقرار ہیں کیا ایسے حالات میں کرنے کے کام یہی ہیں؟ ابھی کچھ دنوں میں یوگی کے اترپردیش میں کئی ماب لنچنگ کی واردات ہوچکی ہیں یہ خون خرابے اور ہندوستانی حکومت کی استعماری پالیسیاں کیا تقاضا کرتی ہیں؟* 

غور کرنا چاہیے کہ مجھ میں خامی کیا ہے؟ جو میرے ذریعے اب امت میں ایکدوسرے کے خلاف آگ بھڑک اٹھتی ہے ایسا تو نہیں کہ اللّٰہ نے اس پورے خطہء زمین کے بزرگوں اور قدآور علماء کو اہل بیت اطہار ؓ کی افضلیت اور احقاق حق کی توفیق ہی نہ دی ہو جو اس معاملے کوئی بھی آپکے ساتھ نہیں یقینًا تعداد سے فیصلے نہیں ہوتے لیکن قحط بھی نہیں پڑجاتا کہ حق صرف ایک ہی زبان میں لپٹ کر رہ جائے؟ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وہ کیا خامیاں اور کمزوریاں ہیں کہ اس مسئلے میں سبھی کنارے ہیں غلطیاں تسلیم کرنے سے کسی کا بھی قد گھٹتا نہیں _

 صحابۂ کرام ؓ پر دانشگاه کا یہ موضوع عوام میں آنا ہی افسوسناک موڑ ہے یہ نظریہ مردود اور مذموم ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ کے متعلق یہ بیانیہ تشکیک پھیلانے والا ہے اس موقف میں ہم پہلے بھی سلمان حسینی صاحب سے متفق نہیں تھے آج بھی ان کا یہ نظریہ ہرسطح پر سختی سے مسترد کرنے لائق ہے امت کے ذہنی لیول کو نہ سمجھ کر اپنی سطح کو تھوپنے کی کوشش کرنا مصلحین کا کبھی طرز نہیں رہا امت کو بار بار غصہ دلانا ان کے تئیں درشت زبان اختیار کرنا پہلے نازک موضوعات کو ان کے تقاضوں کے خلاف چھیڑنا پھر اپنی ہی قوم پر ملامت کے تیر برسانا یہ سب اپنے آپ کو الجھا لینے والے رویے ہیں جنہیں ہر انصاف پسند اور مخلص انسان ظالم لنفسہ کہے گا 

 صحابہءکرام ؓ کے تئیں جو نظریہ اور موقف چلا آرہاہے وہی چلے گا اس کے سوا جو کچھ کسی نے کبھی بھی کرنا چاہا ہے وہ کبھی رائج ہونا تو درکنار باقی بھی نہیں رہا، عقلمندوں کے لیے اس میں نصیحت ہے

*صحابہءکرام ؓ ہماری راہوں کے ابدی چراغ ہیں انہی سے کائنات ہستی میں رنگ و نگار ہیں وہ ایک ایسی جماعت تھی جس نے تحریک اسلامی کے نظریات کو چہار دانگ عالم میں کامیابی کے ساتھ پھیلا دیا وہ اسلام کے محسنین کی اولین کھیپ ہے جن کے بظاہر منفی معاملات میں کف لسان کا مطالبہ ہے اور یہ احسان شناسوں کی انسانی پہچان ہے، ان کے حسنات ان کی خدمات ان کی لازوال قربانیوں کو سرمہء بصیرت بنانے والے ناقابل تسخیر ہوجاتے ہیں اسلامی محاذ اور اعلاء کلمۃ اللّٰہ کی خاطر راہِ شوق میں صحابہءکرام ؓ کے نقوشِ قدم چومتے چلنا نویدِ سحر اقبال مندی اور فتوحات کا استعارہ ہے، ابوہریرہ ؓ سرورِ کائنات فاتحِ جن و انس محمدﷺ کا دلارا ہے ان سب کے بارے میں قرآن اعلان کرتاہے: " و کُلّاً وعد الله الحُسنٰی " اور یہیں روشنائی جذب اور الفاظ ختم… صلوا علیہ و آلِہ صلی الله علیہ وسلم _*


*سمیع اللّٰہ خان*

۸ ستمبر ۲۰۲۰ 

ksamikhann@gmail.com